Skip to content

جینے کا سلیقہ آگیا

ھمیں چپ رہ کے جینے کا سلیقہ آ گیا ھے اب

کوئی لمحہ خوشی کا ھو یا دکھہ اترے رگِ جاں میں 

کوئی تنہا ھمیں کر دے کہ باندھے عہدِ پیماں میں

ھمیں اب کچھہ نہیں ھوتا  

یہ سب ماضی کے قصّے ھیں

کی ھم چڑیا کے مر جانے پہ پہروں جی جلاتے تھے

کبھی جذبوں کے آنگن میں نئے سپنے سجاتے تھے

ملن کی تتلیاں بھی اپنے پر پھیلایا کرتی تھیں

ھمیں کچھہ ان کہی باتیں سمجھہ آیا کرتی تھیں

کبھی ِاک نرم سرگوشی ھمیں خوابیدۃ کرتی تھی

کبھی چھوٹی سی کوئی بات بھی رنجیدہ کرتی تھی

یہ سب باتیں پرانی ھیں 

اب ایسا کچھہ نہیں ھوتا

حوادث نے لبوں پر مہرِ خاموشی لگادی ھے

خوشی کی بات کا ، غم کا اثر ھم پر نہیں ھوتا

نظر سے گل کھلانا کار گر ھم پر نہیں ھوتا

شگوفے کِھل اٹھیں یا پھر خزں میں ھم اکیلے ھوں

شفق آنگن میں اترے یا بدن خواہیش کے میلے ھوں

ھمیں اب کچھہ نہیں ھوتا

ھمین اب کچھہ نہیں ھوتا

جینے کا سلیقہ آگیا

ھمیں چپ رہ کے جینے کا سلیقہ آ گیا ھے اب

کوئی لمحہ خوشی کا ھو یا دکھہ اترے رگِ جاں میں 

کوئی تنہا ھمیں کر دے کہ باندھے عہدِ پیماں میں

ھمیں اب کچھہ نہیں ھوتا  

یہ سب ماضی کے قصّے ھیں

کی ھم چڑیا کے مر جانے پہ پہروں جی جلاتے تھے

کبھی جذبوں کے آنگن میں نئے سپنے سجاتے تھے

ملن کی تتلیاں بھی اپنے پر پھیلایا کرتی تھیں

ھمیں کچھہ ان کہی باتیں سمجھہ آیا کرتی تھیں

کبھی ِاک نرم سرگوشی ھمیں خوابیدہ کرتی تھی

کبھی چھوٹی سی کوئی بات بھی رنجیدہ کرتی تھی

یہ سب باتیں پرانی ھیں 

اب ایسا کچھہ نہیں ھوتا

حوادث نے لبوں پر مہرِ خاموشی لگادی ھے

خوشی کی بات کا ، غم کا اثر ھم پر نہیں ھوتا

نظر سے گل کھلانا کار گر ھم پر نہیں ھوتا

شگوفے کِھل اٹھیں یا پھر خزں میں ھم اکیلے ھوں

شفق آنگن میں اترے یا بدن خواہیش کے میلے ھوں

ھمیں اب کچھہ نہیں ھوتا

ھمیں اب کچھہ نہیں ھوتا 

٭٭٭٭٭ آسکر ایوارڈ ٭٭٭٭٭

<a href="” title=”آسکر ایوارڈ” target=”_blank”>

پتہ نہیں طبعیت میں عجیب بے چینی ہے ، خوشی بھی ہے اور رونے کی سی بھی کیفیت ہے، یہ کیا ھو رہا ہے سمجھ نہیں پا رہی ھوں ، کہیں خوشی ھو رہی ہے کہ ھمیں دنیا کے سب سے بڑا ایوارڈ آسکر سے نوازا گیا ہے اور اُن خواتین کے لیے آواز بُلند ھوئی جنکو تیزاب سے،آگ سے جلا دیا جاتا ہے، کہیں یہ بات دل کو رولائے دے رہی ھے کہ ھمارے قرآن کو جلایا جارہا ھے اُسکی بے حرمتی کی جا رہی ھے اور مسلمان جو کے انسان ہیں اُن کے حق کو پامال کیا جا رہا ھے، کہیں پیٹرول مہنگا ، کہیں غربت کی وہ انتہا کہ سوچ بھی نہیں سکتے، کہیں الیکشن میں تھپڑوں کی بارش کہ ووٹ دینے کیطرف دل مائل نہیں ھوتا کہ ووٹ دینے پر بھی فیصلہ وہی ھوگا جو ھمارے سیاستدان چاہتے ہیں، کہیں اپنے ملک میں خوبصورت دیدہ زیب نیئ نیئ لان کے سوٹوں کی لانچنگ، مہنگے سے مہنگے خوبصورت ڈیزائن کے ڈریس جنھیں دیکھکر دل خوش ھوتا ہے اور فخر کہ ھمارے یہاں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ھے، کہیں عورتوں کی تذلیل اُنکو حقوق نہ ملنے کی خبریں اور کہیں مارننگ شوز میں خواتین کے بہادری، زہانت اور تعلیم کے چرچے کہ دل خوش ھے کہیں افسردہ اور کہیں رونے لگتا ھے، یہ کس کیفیت میں زندگی گزر رہی ھے،
کبھی دل کہتا ھے کہ یہ اپنا ملک ہے جیسا بھی ھے یہاں کی خوشی اور غم اپنے ہیں، ھمیں انکے ساتھ ہی جینا ھے اور کہیں کوئی یہ نصیحت کرتا ھوا دیکھائی دیتا ھے کہ کیا ہر وقت پاکستان کو ہی دماغ پر سوار کیا ھوا ھے بابا باہر نکلو پڑوسی ملک کے پروگرام دیکھو وہاں کے رنگ دیکھو سکون ملے گا خوشی ملے گی لیکن دل یہ کہتا ھے کہ دوسروں کا کلچر،مذہب،ترقّی دیکھکر کیا سکون مل جاتا ھے میرے خیال میں ایسا نہیں ھو سکتا کیونکہ ہر اچھی چیز جو ھم دوسروں کے پاس دیکھتے ہیں اُسے اپنے پاس دیکھکر خوشی ھوتی ھے اور یہی خواہش ھوتی ھے کہ اپنے ملک میں بھی امن ھو، محبّت ھو ، بھائی چارہ ھو، اپنی چیزوں پر فخر ھو، اپنے لوگ خوش دیکھائی دیں، تب ہی دل اندر سے خوشی محسوس کریگا، نہیں تو حالات ایسے ہیں کہ نہ سہی خوشی ھے نہ سہی سکون اس کیفیت میں زندگی کب تک چلنی ھے یہ نہیں جانتے لیکن جب جب خوشی کے آثار نظر آتے ہیں دل پاکستان کی ترقّی اور خوشحالی کے لیے دعا گو ھوتا ھے جیسے شرمین عبید کے آسکر ملنے پر ھم نے بہت خوشی محسوس کی اور دل سے اس ملک کی ترقّی اور خوشحالی کے لے دعائیں نکلیں، آللہ پاکستان کو بہت عزّت اور مرتبہ عطا کرے آمین

))))))))))) سوچیں ((((((((((((

یہ حقیقت ھے کہ زندگی میں مسایل انسان کو گھیرے رھتے ھیں اور ھم ہر دم کسی نہ کسی فکر یا پریشانی میں مبتلا رھتے ھیں اور اسی فکر ، پریشانی میں سوچ سوچ کر اپنے دن گزارتے رھتے ھیں ، کیوں نہ ھم کوشش کریں کے اس کیفیت سے اپنے آپ کو نکالیں اس کے لیے سب سے پہلے جب ھم اپنے دن کا آغاز کریں تو اپنے آپ سے یہ سوال کریں کہ آج کے دن آپ کیا کرنا چاھتے ھیں،
٭ کیا آج کا دن اپنے ماضی کے برے تجربات کے بارے میں سوچیں گے یا یہ سوچ کر پریشان رہینگے کے آپ اپنا مستقبل کیسے بہتر بناییں ـ
٭ اپنے آپ سے نفرت کرینگے کیونکہ لوگ آپ کو پسند نہیں کرتے ھیں ـ
٭ آپ یہ سوچیں گے کے میرا کوٰی دوست نہیں ھے اسلیے میں اکیلا ھوں ـ
٭ آپ یہ سوچ کر کہ فلاں شخص نے میرے بارے میں یہ راٰۓ دی ھے اور آپ اس کی راٰے کو سہی جان کر اپنے آپ کو حقیر سمجھنے لگیں گےـ
٭ یہ سوچیں گے کہ اگر س کام میں پیسہ ھے تو مجھے یہ کام کرنا چاھیے نہیں تو بیکاری میری قسمت میں کیوں ھے
٭ کیا آپ یہ چاھتے ھیں کہ آپ اپنے بارے میں سوچتے رھیں ـ
٭ کیا اپ اپنی ناکامیوں پر یہ سوچیں گے کہ میں اس لیے ناکام ھوں کے قصوروار میرے والدین ھیں یا میری زندگی کہ حالات ـ
٭ کیا اپ اپنے مسایل ، اپنی بیماری ، اپنی پریشانیوں کے بارے میں سوچیں گے کہ ایسا کیوں ھے ـ
کیا اپ ناراض ھوجایننگے ہر اس شخص پر جو آپ کے راستے میں آرہا ھے آپکی پریشانیوں کو دور
کرنے کیلیے ـ
یہ سب میدرجہ بالا سوچیں انسان کو پریشان رکھتی ھیں اور بندہ ان سوچوں میں ڈوبتا چلا جاتا ھے، ان سوچوں سے نکلنے کا بہت آسان سا راستہ ھے ِ،
معاف کردیں
بھول جاییں
آگے کیطرف چل دیں
یہ سب اگر ھم کرلیں تو اس سے ھمیں ملیں گی حقیقی
خوشیاں
کامیابیاں
سکون و اطمنان
اب فیصلہ آپ پر ھے کہ اسپر عمل کرکے اپنی الجھنوں کو کم کریں یا ویسے ھی رھنے دیں ، ہر کام سے پہلے آپ اپنے اندر یہ یقین پیدا کرلیں کہ جو منزل آپ نے پانی ھے اس کے راستے میں حایل ہر روکاوٹ ہر مشکل کو آپ عبور کر سکتے ھیں، صرف سوچتے رھنے سے ھم کچھ حاصل نہیں کر سکتے جب تک بہتری کے لیے عملی قدم نہ اٹھاییں اور یہ اقدام ھمیں بہت سے فایدے پہنچاتے ھیں جن سے زندگی کے بارے میں ھم بہت کچھ جان کر اسے اپنے لیے اور دوسروں کے لیے آسان بنا سکتے ھیں –

ـ

ۂۂۂۂۂ انوکھا لاڈلا ۂۂۂۂۂ

<a href="” title=”انوکھا لاڈلا” target=”_blank”>

انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند رے انوکھا لاڈلا
کیسی انوکھی باات رے
انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند رے
تن کے گھاو تو بھر گیے داتا من کا گھاو نہیں بھر پاتا
جی کا حال سمجھ نہیں آتا کیسی انوکھی باات ھے
انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند رے انوکھا لاڈلا
پیاس بجھے کب اک درشن سی تن سلگے بس ایک اگن میں
من بولے رکھلوں نینن میں کیسی انوکھی باات ھے
انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند رے انوکھا لاڈلا
جس پے نہ بیتی وہ کب جانے جگ والے آے سمجھانے
پاگل من کوٰی بات نہ مانے کیسی انوکھی باات ھے
انوکا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند انوکھا

؟؟؟؟؟؟؟

میرے اللہ ھم مسلمانوں کو اس زلّت سے نکال، ھمیں ھیدایت دے کے ھم بھٹکنے سے بچ جاییں، ھمیں بھلاٰی کا راستہ دکھاکے مزیدزلّت اور رسواٰی ھمارے مقدّر سے مٹ جایے –آمین

ھمارے ٹی وی ڈرامے

آجکل پاکستان ٹی وی چینلز پرڈرامے اچھے آرہیے ہیں،ہر چینل پر ڈرامہ اچھا ھے، کون سا دیکھیں کونسا نہیں دیکھیں والا معاملا نہیں ہے سب اچھے ھیں ، میرے ٹی وی ٹایمینگ شام 30 : 7 سے 30 : 9 تک ھے، اسمیں ھم چینل ، اے ۔آر۔ واٰے ڈیجیٹل اور باقی دوسرے چینل کے بھی ڈرامے دیکھتی ھوں، پروڈکشن اچھی ھے سب ڈراموں کی ارٹسٹ بھی اچھا کام کر رہیے ھیں۔ اگرچہ ابھی یہ شروعات ھیں اور آگے آگے ھماری پروڈکشن انشااللہ اور اچھی ھو جایینگی اگر خلوص نیت برقرار رہی تو-
ان ہی پاکستانی چینل پر انڈین ڈرامے اور پروگرام بھی دیکھایے جاتے ھیں جنکی میں سمجھتی ھوں ضرورت نہیں ھے لیکن شاید یہ اسلیے ضروری ھے کہ ھماری عوام انڈین ڈراموں سے متاثر ھے یا اشتہارات ان ڈراموں کو زیادہ ملتے ھیں یا اسلیے کے ھمارے چینل والے چاہتے ھیں کے ھمارے ڈرامے بھی انڈین چینل پر دیکھایے جاییں تاکہ ھمارا ڈرامہ زیادہ ناظرین دیکھیں-
مگر ان سب کے ساتھ ساتھ ھمارے پروگراموں میں ناچ گانا بہت زیادہ ھو کیا ھے جو ھماری ثقافت نہیں ھے ، اگر ھم اپنے مذہب ، اپنے کلچر کو اپنے ڈراموں میں شامل کرکے پیش کریں تو یہ ڈرامے معاشرے کے سدھار کا بھی باعث بنیں گے اور ھم مسلمان جو اپنے مذہب سے دور جا رہیے ھیں اور ھمارے بچّے جو دوسرے مذہب اور کلچر کو فا لو کر رہیے ھیں کیونکہ انڈیا اپنے ڈراموں کے زریعے بھی اپنے مذہب کا پرچار کر رہا ھے اور کارٹون چینلز پر بھی اپنے مذہبی ہیروز کے کارٹون بنا کر دکھا رہا ھے جسے ھمارے بچّے شوق سے دیکھ رھے ھیں اسلیے اسطرف توجہ کی ضرورت ھے-

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.